
Recent Cases
28 Years Later: Rehana Finds Her Father in Malaysia — A Journey of Love, Loss, and Reunion
Abducted 65 years ago, Osam Jan Reunited within 8 hours
Abdul Qadeer from Shahkot Punjab
After 39 Years Apart, Maryam Reunites with Her Brothers in India — Bound by Time and Hope
Aliya is looking for her mother Gloria Goo in Philippines
Asif’s 33 years journey ends happily in full public eye
Chaman Ara’s 53 Years heartache comes to an end
Do you know Muhammad? Help us find his parents
Hamida Bano, 24 Years Of Separation Ends
He Left for a Walk in Sahihwal and Never Came Back
Help Javed find his parents
Lost for 9 years, found within 24 hours
Missing Since 2022, Little Ahmed Clings to Hope for Reunion
Moni from India reunited after 35 years
Pattoki Babaji Returns to Bangladesh after 35 years
Qad Bano of India is found after 40 years in Pakistan
Reunited after 40 years, Shahida’s story
Shafali’s mother sees her after more than three decades
Sidra’s DNA matched with parents after 32 years
Stolen Childhood, Silent 6 Decades — Hamida Comes Home
The Remarkable Journey of Zahida
Thousands of more cases to upload, From Philippines, Yemen, Saudi Arabia, Malaysia, Australia, Bangladesh, Pakistan, India and Many More
We are looking for Aisha
Zain Reunited with desperate parents after 3 years
Join Our Community of Volunteers
What people say about us


Facebook Feed
اس خاتون کا نام یاسمین ہے اور والد کا نام محمد رفیع ہے۔
یاسمین کے لئے ایک بہن نے رابطہ کرکے انکی دردناک داستان کچھ اس طرح سے بیان کی ہے:
"السلام علیکم
ولی اللہ بھائی ایک خاتون جو کہ **** میں رہائش پذیر ہیں
انکی داستان بہت دکھی ہے۔
کراچی سے والد نے سوتیلی والدہ کی باتوں میں آکر بوڑھے آدمی سے کم عمری میں نکاح کردیاتھا۔
خاتون کا نام۔یاسمین والد کا نام محمد رفیع تھا۔تین چھوٹے بھائی تھے۔جنکے نام سلیم،اعجاز،ریاض تھے۔والدہ کا نام شکیلہ تھا۔تایا کا نام شفیع محمد ہے۔ ریڑھی گوٹھ میں رہائش پزیر تھے
تایا کے بچوں کے نام احمد،بشیر ہیں۔
کہانی کچھ اس طرح سے ہے۔
اچھے کھاتے پیتے خاندان سے تعلق تھا۔والد نے دوسری شادی کر لی۔
گھریلو ناچاقی کی بنا پر والد دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی بیوی کو مٹی کا تیل چھ*ڑک کر آ*گ لگا دی۔والدہ حاملہ تھیں اور بچے سمیت ج*ل کر م*ر گئیں۔
جب پولیس آئی تو بچی(یاسمین) جو اس وقت نو سال کی تھیں اس نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروایا جسکی بنیاد پر پولیس والد اور والدہ کو پکڑ کر لے گئے۔
بچوں کو پھپھو لے گئیں ۔
بعد میں جب والد جیل سے واپس آئے تو بچے بھی واپس لے آئے۔
سوتیلی والدہ بہت برا سلوک کرتی تھیں۔کبھی گھر سے بھی نکال دیتی۔ شاید والد نے انہی مسائل سے چھٹکارہ پانے کیلئیے پنجاب میں کسی بوڑھے کے ساتھ بیاہ کر جان چھڑائی۔
بوڑھے خاوند کی وفات کے بعد ایک دو جگہ دوبارہ نکاح ہوا۔ اب یاسمین کے 7 بچے ہیں ۔
لیکن اپنے بھائیوں کو ملنے کی تڑپ میں دن رات روتی ہیں۔
کہتی ہیں کبھی کبھی مجھے اپنے بھائیوں کی خوشبو آتی ہے۔
پہلے جس خاوند کے ساتھ شادی کی تھی۔
ان سے منت سماجت کرکے شناختی (1998 کا شناختی کارڈ جو ہاتھ سے لکھا ہوا ہے) کارڈ لیا ہے۔
جس پہ گھر کا ایڈریس لکھا ہوا ہے۔
گھر کا ایڈریس شناختی کارڈ پر
مکان نمبر 2571 سیکٹر نمبر 2 کچی آبادی مجید کالونی لانڈھی کراچی نمبر 22 درج ہے۔"
کراچی کے تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔یاسمین کو اسکے بھائیوں سے ملاکر اسکی تکلیف دور کریں۔ بہن بھائیوں کی ملاقات کرواکر ایک ویران چمن کو پھر سے آباد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
15 june 2026
#waliullahmaroof
ایک مصری نوجوان کی اپنی پاکستانی جڑوں کی تلاش
میں مصر میں پیدا ہوا، مگر میری رگوں میں ایک اور مٹی کا خون بھی دوڑتا ہے۔ میرے دادا عبدالغنی بن غلام نبی سُلیرا راجپوت 1910 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 1931 میں مصر ہجرت کر گئے۔ ان کے ساتھ ان کا ایک بھائی بھی تھا — اور دونوں نے پاکستان کی مٹی سے ہمیشہ کے لیے رخصت لی۔
قیامِ پاکستان کے بعد 1947 سے 1956 تک ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ بھی رہا، تو کہیں نہ کہیں کوئی سرکاری ریکارڈ ضرور موجود ہوگا۔
میرے پاس ایک مُہر بھی ہے جس پر لکھا ہے: “انجینئر سُلیرا — ۱۲۹۷” — یعنی 1888 — جو شاید ان کے والد غلام نبی سے منسوب ہو، جن کے بارے میں گھر میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ لینڈ سروے کے شعبے سے وابستہ تھے۔
“سلیرا” یا “سولارا” راجپوت ذات کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سلہریا قبیلے کی ایک شاخ ہے۔ چنیوٹ میں بھی ایک “سلارا” نامی علاقہ اور قبیلہ ملتا ہے، مگر وہ راجپوت نہیں — اس لیے تعلق مشکوک ہے۔ ہمارا خاندانی تعلق سیالکوٹ سے بتایا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ شاید سیالکوٹ میں “محلہ سلہریا” نام کی کوئی جگہ ہے۔
کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟
اگر کوئی صاحب سیالکوٹ کے اس محلے، سُلیرا / سلہریا راجپوت خاندانوں سے واقف ہوں، یا 1880 کے لگ بھگ کے زمینی ریکارڈ، گزٹ، یا انتظامی دستاویزات تک رسائی رکھتے ہوں — تو براہِ کرم رابطہ کریں۔ ایک مصری بیٹا اپنی پاکستانی جڑوں کو تلاش کر رہا ہے۔"
اگر سیالکوٹ سے اس مصری بھائی کے شجرے تک ہماری یہ پوسٹ پہنچتی ہے تو ضرور رابطہ کریں۔مصر سے انکا خون اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
14 june 2026
#waliullahmaroof

