Together We
Bring Them Home

Trying to find someone lost? Or just holding onto hope? I am here to help.

I Am Waliullah Maroof

I Reunite Broken Bonds & I Speak for the Silent Cries

Every day, I work to reconnect families with their missing loved ones—offering support, hope, and a place where no search goes unheard. I help bring people home.

01

Human Trafficking

Protecting women and children exploited through trafficking by identifying victims, raising awareness, and supporting rescue and rehabilitation efforts.

02

Missing Persons

Helping locate lost children and adults through coordinated efforts, community support, and rapid response networks to reunite families.

03

Cross-Border Cases

Assisting in tracking and recovering individuals missing across national borders through international cooperation and legal coordination.

04

Rehabilitation & Recovery

Providing emotional, medical, and legal support to rescued individuals, helping them heal, reintegrate, and rebuild their lives with dignity.

Recent Cases

Join Our Community of Volunteers

What people say about us

Facebook Feed

Waliullah Maroof

1 hour 36 minutes ago

یہ نوجوان بول اور سن نہیں سکتا

اسکا نام علی رضا ہے اور والد کا نام اللہ دتہ ہے۔ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ملتان کا رہائشی ہے۔
علی رضا 23 مارچ 2017 کو گھر سے نکل کر خانیوال کے ایک روحانی اجتماع میں شرکت کرنے گیا تھا۔اجتماع کے بعد واپس گھر نہیں پہنچ سکا۔
علی رضا کی والدہ دن رات اپنے بچے کے لئے روتی ہے۔صبح شام بیٹے کا چہرہ خیالوں میں ہوتا ہے۔
والدین کا اکلوتا سہارا تھا۔ذہنی طور پر بالکل تندرست تھا۔
ماں کسی دوسرے بچے کو مخاطب کرنے کے لئے بلاتی ہے تو اچانک علی رضا نام منہ پر آجاتا ہے پھر یاد آتا ہے کہ علی رضا تو نہیں ہے۔ سارا دن روتی ہے اور طبعیت خراب ہوجاتی ہے۔
علی رضا ضرور کسی ایسی جگہ گیا ہوگا جہاں وہ کسی کو اپنا ایڈریس بتانے سے قاصر ہوا ہوگا اور کسی نے اپنے پاس رکھ لیا ہوگا۔
آپ انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو ملک بھر میں عام کریں ان شاءاللہ علی رضا کا غمگین گھرانہ خوشیوں سے بھرپور گھرانہ بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

29 july 2026
#waliullahmaroof

Waliullah Maroof

11 hours 51 minutes ago

یہ 1979ء کی بات ہے…
بابر اُس وقت صرف چار یا پانچ سال کا معصوم بچہ تھا۔ والد کا نام اصغر اور والدہ کا نام سید بی بی تھا۔ خاندان ایک کچے مکان میں رہائش پذیر تھا۔
بابر اپنے ماں باپ کا لاڈلا اور اپنے دو بھائیوں کا سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ گھر بھر کی آنکھوں کا تارا… وہ خود کہتا ہے:
"مجھے گھر میں بہت زیادہ پیار کیا جاتا تھا۔ میں اپنی مستیوں میں گم، اپنی چھوٹی سی دنیا کا بادشاہ تھا۔"
پھر ایک دن اُس کی معصوم دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
بابر کے ماموں نے کہا:
"چلو، پتاسے کھانے چلتے ہیں۔"
ننھے بابر نے خوشی خوشی ماموں کی انگلی پکڑی اور اچھلتا کودتا اُن کے ساتھ چل پڑا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ سفر ماں کی گود، باپ کے سائے اور اپنے گھر سے نصف صدی کی جدائی کا آغاز ہے۔
ماموں اسے ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر (ماموں ٹرک چلاتا تھا) بٹھا کر صبح سے سفر کرتے ہوئے سہ پہر کے وقت لاہور کے ایک علاقے میں لے آئے۔ وہاں ماموں نے بابر سے کہا:
"تم یہاں رکو، میں ابھی آتا ہوں۔"
ماموں تو واپس نہ آئے…
اور وہ دن اور آج کا دن، بابر اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا۔
ایک ننھے بچے سے اس کا بچپن چھن گیا۔۔ایک گھر اجڑ گیا۔
ایک ماں اپنے بیٹے کے انتظار میں رہ گئی۔ایک باپ اپنے لاڈلے کو ترستا رہا۔
بابر کو ایک یتیم خانے نے اپنے پاس رکھ لیا۔ وہاں اس کی اچھی پرورش ہوئی۔ ادارے کی میڈم نے اسے اپنے بچوں کی طرح محبت دی۔ بابر کی فائل آج بھی اسی ادارے میں موجود ہے۔
بچپن کی تصویر بھی ادارے کے ریکارڈ سے ملی ہے۔
ادارے کے منتظمین کے مطابق جب بابر وہاں آیا تھا تو وہ فارسی زبان میں کوئی نغمہ گنگنایا کرتا تھا، جس کے آخر میں شاید "لولولولو" کے الفاظ آتے تھے۔ ممکن ہے وہ اپنی ماں کی سنائی ہوئی کوئی لوری گاتا ہو… شاید ماں کی وہ لوری ہی تھی جو اس معصوم بچے کو اتنی بڑی جدائی کے باوجود یاد رہ گئی۔
آج تقریباً 47 سال گزر چکے ہیں۔
بابر خود بچوں کا باپ بن چکا ہے، مگر اس کے دل میں آج بھی اپنے ماں باپ کی محبت ویسی ہی زندہ ہے۔ وہ آج بھی اپنے والد اصغر اور والدہ سید بی بی کو یاد کرتا ہے اور اُن کی محبت کے لیے ایسے تڑپتا ہے جیسے مچھلی پانی کے لیے تڑپتی ہے۔
اسے اپنے والدین کے نام کے علاوہ خاندان کے کسی فرد کا نام یاد نہیں۔
لیکن امید ابھی زندہ ہے…!
ہو سکتا ہے بابر کے والدین دنیا میں نہ ہوں، لیکن شاید اس کے بھائی، رشتہ دار یا کوئی ایسا شخص آج بھی موجود ہو جو اصغر اور سید بی بی کے اس بچھڑے ہوئے بیٹے بابر کو پہچان سکے۔
اللہ کا نام لے کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کیا معلوم یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو بابر کے خاندان کو جانتا ہو۔
اللہ بچھڑوں کو ملانے والا ہے۔ ان شاء اللہ، بابر کا خاندان بھی مل سکتا ہے۔
کسی بھی قسم کی اطلاع ہو تو نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں:
+92 316 2529829

29 جولائی 2026
#WaliullahMaroof

Waliullah Maroof

1 day 8 hours ago

4 سال کی عمر میں گم ہونے والی کراچی کی نجلہ 18 سال بعد خاندان کو مل گئی۔ نجلہ اور اسکے خاندان کی مکمل داستان